Skip to main content

کیا اللہ نے انسانیت کو مختلف مذاہب میں تقسیم کیا؟

 کیا اللہ نے انسانیت کو مختلف مذاہب میں تقسیم کیا؟

*************************************************


اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے کئی مذاہب بنائے ہیں، ہم کسی کا بھی اتباع کر لیں، یہ ہمارے لیے کافی ہے۔


لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب میں باہمی تضاد پایا جاتا ہے۔


کیا یہ ممکن ہے کہ ہمارا خالق...


👉 مسلمانوں کو یہ بتائے کہ اللہ "ایک" ہے، نہ کوئی اس کے برابر ہے اور نہ اس کی کوئی شبیہہ ہے؟

👉 اور وہی اللہ ہندوؤں سے کہے کہ بہت سے خدا ہیں اور اس کی عبادت کے بجائے بتوں، جانوروں، سورج، چاند وغیرہ کی عبادت کی جائے؟

👉 وہی اللہ عیسائیوں سے کہے کہ خدا تین میں ایک ہے اور خدا کا ایک بیٹا بھی ہے؟

👉 اور وہی اللہ ملحدوں کو بتائے کہ خدا کا کوئی وجود ہی نہیں ہے؟


کیا یہ عقل مندی کی بات لگتی ہے؟

یہ تمام باتیں ایک ساتھ صحیح نہیں ہو سکتیں۔


ہم انسان، پیدائش کے لحاظ سے جسمانی طور پر اور ضروریات میں ایک جیسے ہیں۔

ہم میں سے کوئی اپنی مرضی سے اس زمین پر نہیں آیا۔


عقل اور شعور کہتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق اور پروردگار ایک ہی ہے۔


جب اللہ ایک ہے، تو فطری بات ہے کہ اس "ایک" اللہ کی "رہنمائی" انسان کے لیے یکساں ہونی چاہیے، چاہے وہ کسی بھی قوم، ثقافت، ملک یا علاقے سے ہو۔


ہم جانتے ہیں کہ اللہ نے اپنا پیغام اور رہنمائی مختلف زبانوں اور ثقافتوں میں بھیجی۔


پیغمبروں کی یہ سلسلہ آدم (جنہیں ہندوستانی روایت میں "سوام بھو منو" کہا جاتا ہے) سے شروع ہو کر آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوتا ہے۔


پہلے پیغمبر سے لے کر آخری تک، اللہ کا دین "ایک" اور یکساں رہا ہے۔


اسی "ایک" دین کو سنسکرت میں "سناتن" اور عربی میں "اسلام" کہتے ہیں۔


ایک اللہ، ایک دین، ایک انسانیت۔

Comments

Popular posts from this blog

بے بس سے بااختیار بنو: امت مسلمہ کے لیے ایک پیغام

  بے بس سے بااختیار بنو: امت مسلمہ کے لیے ایک پیغام خورشید امام ********************************************* آج مسلم دنیا بدترین حالات سے گزر رہی ہے — انتشار، بے بسی، مایوسی اور مسلسل تکلیفیں۔ بھارت سے لے کر فلسطین تک مسلمان پریشان حال ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ؟ بے اختیاری ۔ دنیا میں جہاں طاقت ہی سب کچھ ہے، ہم پیچھے رہ گئے۔ جب طاقت حاصل کرنے کا وقت تھا، ہم دوسری باتوں میں الجھے رہے۔ تاریخ اسلام کی تین بڑی غلطیاں یہی تھیں: حدیث کو قرآن پر ترجیح دینا دین و دنیا کو الگ کرنا علماء کی حد سے زیادہ عقیدت ہم نے بار بار سنا: "تین قسم کی دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں..." لیکن کیا اربوں مسلمانوں کی دعاؤں نے غزہ کا قتل عام روک لیا؟ سوچیں! شاید ہمیں اسلام کا غلط نظریہ سکھایا گیا۔ یہ غلطیاں صدیوں سے ہمیں اندر سے کمزور کرتی آئی ہیں۔ اور آج بھی کچھ علماء انہی غیر اہم باتوں میں مصروف ہیں — خلفاء کی رینکنگ، ظاہری لباس، چھوٹے فقہی اختلافات — جب کہ امت کا حال برباد ہے۔ دوسری طرف کچھ "روشن خیال" افراد ایسے ہیں جو اپنی قوم کی تذلیل کرتے ہیں اور اسرائیل کی تعریف، فلسطینیوں ک...

لفظ نماز کی اصل: سنسکرت یا فارسی؟

لفظ نماز کی اصل: سنسکرت یا فارسی؟  خُرشید امام ------------------------------------------ لفظ نماز نہ تو عربی زبان سے ہے اور نہ ہی سنسکرت زبان سے، بلکہ یہ فارسی زبان سے آیا ہے۔ یہ پہلوی دور کے الفاظ نماچ یا نماگ سے ماخوذ ہے، جن کا مطلب ہے: دعا، عبادت۔ کلاسیکی فارسی ادب میں یہ لفظ اسلامی عبادت کے لئے وسیع پیمانے پر استعمال ہوا اور بعد میں اُردو، ترکی، ہندی، پشتو، کُردی اور وسطی ایشیائی زبانوں میں پھیل گیا۔ اس کے برعکس، عرب دنیا، ملائیشیا، انڈونیشیا اور افریقہ میں آج بھی صلٰوۃ یا اس کے مقامی طور پر ڈھالے گئے نام استعمال ہوتے ہیں، کبھی بھی نماز نہیں۔ غلط فہمیاں کچھ لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ نماز سنسکرت لفظ ہے کیونکہ یہ نمس کے مشابہ نظر آتا ہے۔ ۔ نماز سنسکرت کا لفظ نہیں ہے۔  وید، اُپنشد، درشن، پران، مہابھارت جیسے کسی   ہندو مذہبی متن میں لفظ "نماز" کا ذکر نہیں ملتا۔ ۔ کسی کلاسیکی ہندو عالم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ "نماز" سنسکرت لفظ ہے۔   سنسکرت لغت میں "نماز" کا وجود نہیں ہے ۔  اس کے برعکس ہر فارسی لغت میں "نماز" موجود ہے ۔ لغت ...

فرض ‘ سنّت اور نفل عبادت میں فرق

فرض ‘ سنّت اور نفل عبادت  میں فرق کیا ہے ۔  تحریر :- خورشید امام ترجمہ:- شائستہ مسعود **************************************** یہ بات ہمیں ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ اسلام میں کسی بھی عمل یا عبادت کو صرف دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فرض :-  یعنی لازمی اگر فرض عبادت /عمل چھوٹ گیا تو گنہ گار ہوں گے۔ نفل :-  یعنی اختیاری۔ اگر نفلی عبادت/یا کام کیا گیا تو اس کا اجر و ثواب ملے گا۔ مگر چھوڑ دینے سے کوئی گنہ گار نہیں ہو گا۔  پیغمبر محمّد ﷺ نے نماز یا کسی بھی عمل کو واجب۔ سنّت مؤکّدہ و غیر مؤکّدہ۔ یا مندوب و مستحبّات میں تقسیم نہیں کیا اور نہ کوئی درجہ بندی کی۔ یہ اصطلاحیں محمّد ﷺ کے زمانے میں استعمال نہیں ہوئِیں۔ یہ اصطلاحیں بعد کے زمانے میں فقھاء نے عوام النّاس کو سمجھانے کے لئے ایجاد کیں۔ قرآن کے نظریے اور محمّد ﷺ کی زندگی کو سامنے رکھ کر کسی بھی عمل کو صرف دو درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ۔فرض:- لازمی ۔ نفل:- اختیاری فقھاء نے بعد میں نوافل کی درجہ بندی کچھ اس طرح کی ہے :۔ ۔ واجب :ـ یہ وہ عبادت جسے محمّد ﷺ نے اکثریت سے کیا ہ...