Skip to main content

اللہ نے زندگی کو آسان بنایا، انسانوں نے اسے مشکل بنا دیا

 اللہ نے زندگی کو آسان بنایا، انسانوں نے اسے مشکل بنا دیا

انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت واضح نظر آتی ہے: ہر انسان امن، عزت، انصاف اور خوشی چاہتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں ظلم، امتیاز، استحصال اور نفرت آج بھی موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان فطری طور پر سکون اور امن کا طالب ہے تو پھر وہ ایسے نظام کیوں بناتا ہے جو معاشرے میں تقسیم اور بے چینی پیدا کرتے ہیں؟

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر انسانوں کے بنائے ہوئے رسم و رواج، تعصبات اور ناانصافی پر مبنی معاشرتی نظاموں کو اختیار کر لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی تعلیمات انسانیت کو آسانی، انصاف اور مساوات کا پیغام دیتی ہیں۔ وہ انسان کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے پیدا ہوئے ہیں، اور ان کی عزت و فضیلت کا معیار ان کا کردار اور تقویٰ ہے، نہ کہ ان کی ذات، نسل، خاندان یا سماجی حیثیت۔

اسلام نے انسانیت کے سامنے ایسے اصول پیش کیے جو انسانی وقار اور برابری کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں:

  • انسان کسی ذات یا برادری کے داغ کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔

  • انسان کی فضیلت اس کے تقویٰ اور کردار سے دیکھی جاتی ہے، نہ کہ اس کے نسب سے۔

  • ہر شخص بغیر کسی پجاری یا واسطے کے براہِ راست اللہ سے دعا کر سکتا ہے۔

  • نماز کی امامت نسل یا خاندان کی بنیاد پر نہیں بلکہ علم اور اہلیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

  • امیر اور غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔

  • مسجد کے دروازے ہر انسان کے لیے کھلے ہوتے ہیں۔

  • نکاح میں اصل اہمیت دین اور اچھے کردار کو دی جاتی ہے، نہ کہ سماجی مرتبے کو۔

  • زکوٰۃ اور صدقہ کو معاشرتی ذمہ داری بنایا گیا ہے تاکہ ضرورت مندوں کی مدد ہو سکے۔

  • حج کے دوران لاکھوں مسلمان ایک جیسے سادہ لباس پہن کر انسانی مساوات کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔

  • مسلمان ایک عالمی امت کا حصہ ہیں جو نسل، زبان، قومیت اور رنگ کے فرق سے بالاتر ہے۔

یہ اصول اس لیے انقلابی تھے کیونکہ انہوں نے انسانوں کے بنائے ہوئے طبقاتی نظاموں اور جھوٹے فخر کو چیلنج کیا۔ اسلام نے انسان کو یہ سکھایا کہ اللہ کے نزدیک کوئی شخص اپنے خاندان، رنگ یا قوم کی وجہ سے برتر نہیں ہے۔

بدقسمتی سے تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کی ہدایت مل جانے کے باوجود بہت سے لوگ دوبارہ انہی پرانی غلطیوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ اللہ کے احکامات کی جگہ ثقافتی رسم و رواج لے لیتے ہیں۔ عاجزی کی جگہ تکبر آ جاتا ہے۔ کردار کی جگہ نسب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انصاف کی جگہ تعصب اور مفاد پرستی آ جاتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے میں نفرت، ظلم اور تقسیم جنم لیتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اللہ کا راستہ مشکل ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انسان اکثر اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنے بنائے ہوئے نظاموں کو ترجیح دیتا ہے۔ ہم بعض اوقات کسی رسم یا روایت کو صرف اس لیے درست سمجھ لیتے ہیں کہ وہ پرانی ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ انصاف پر مبنی ہے۔

ذرا ایک ایسے معاشرے کا تصور کیجیے جہاں انسان کی قدر اس کی ذات یا خاندان سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور اعمال سے کی جائے۔ جہاں کسی بچے کو اپنی پیدائش کی وجہ سے ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جہاں کوئی شخص اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے کمتر یا برتر نہ سمجھا جائے۔

ایسا معاشرہ کوئی خواب نہیں ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوتی ہے جب لوگ اللہ کے خلاف جانے والی تعلیمات، ظالمانہ رسم و رواج اور ناانصافی پر مبنی روایات کو ترک کر دیتے ہیں، اور انصاف، رحم اور مساوات کو اپنا لیتے ہیں۔

حقیقی امن صرف معاشی ترقی یا سائنسی ایجادات سے حاصل نہیں ہوتا۔ حقیقی امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے خالق کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارے۔

اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے راستہ آسان کر دیا ہے۔ اب فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اللہ کی ہدایت کو اختیار کرتا ہے یا انسانوں کے بنائے ہوئے ایسے نظاموں کو جو نفرت، تقسیم اور ناانصافی کو جنم دیتے ہیں۔

جب اللہ کی تعلیمات کو انسانی تعصبات پر فوقیت دی جاتی ہے تو نفرت کی جگہ محبت، ظلم کی جگہ انصاف اور تقسیم کی جگہ اتحاد پیدا ہوتا ہے۔

امن اور خوشی کا راستہ ہمیشہ سے ہمارے سامنے موجود ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اللہ کے راستے کو اختیار کرتے ہیں یا ان انسانی روایات کو جو معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

لفظ نماز کی اصل: سنسکرت یا فارسی؟

لفظ نماز کی اصل: سنسکرت یا فارسی؟  خُرشید امام ------------------------------------------ لفظ نماز نہ تو عربی زبان سے ہے اور نہ ہی سنسکرت زبان سے، بلکہ یہ فارسی زبان سے آیا ہے۔ یہ پہلوی دور کے الفاظ نماچ یا نماگ سے ماخوذ ہے، جن کا مطلب ہے: دعا، عبادت۔ کلاسیکی فارسی ادب میں یہ لفظ اسلامی عبادت کے لئے وسیع پیمانے پر استعمال ہوا اور بعد میں اُردو، ترکی، ہندی، پشتو، کُردی اور وسطی ایشیائی زبانوں میں پھیل گیا۔ اس کے برعکس، عرب دنیا، ملائیشیا، انڈونیشیا اور افریقہ میں آج بھی صلٰوۃ یا اس کے مقامی طور پر ڈھالے گئے نام استعمال ہوتے ہیں، کبھی بھی نماز نہیں۔ غلط فہمیاں کچھ لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ نماز سنسکرت لفظ ہے کیونکہ یہ نمس کے مشابہ نظر آتا ہے۔ ۔ نماز سنسکرت کا لفظ نہیں ہے۔  وید، اُپنشد، درشن، پران، مہابھارت جیسے کسی   ہندو مذہبی متن میں لفظ "نماز" کا ذکر نہیں ملتا۔ ۔ کسی کلاسیکی ہندو عالم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ "نماز" سنسکرت لفظ ہے۔   سنسکرت لغت میں "نماز" کا وجود نہیں ہے ۔  اس کے برعکس ہر فارسی لغت میں "نماز" موجود ہے ۔ لغت ...

فرض ‘ سنّت اور نفل عبادت میں فرق

فرض ‘ سنّت اور نفل عبادت  میں فرق کیا ہے ۔  تحریر :- خورشید امام ترجمہ:- شائستہ مسعود **************************************** یہ بات ہمیں ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ اسلام میں کسی بھی عمل یا عبادت کو صرف دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فرض :-  یعنی لازمی اگر فرض عبادت /عمل چھوٹ گیا تو گنہ گار ہوں گے۔ نفل :-  یعنی اختیاری۔ اگر نفلی عبادت/یا کام کیا گیا تو اس کا اجر و ثواب ملے گا۔ مگر چھوڑ دینے سے کوئی گنہ گار نہیں ہو گا۔  پیغمبر محمّد ﷺ نے نماز یا کسی بھی عمل کو واجب۔ سنّت مؤکّدہ و غیر مؤکّدہ۔ یا مندوب و مستحبّات میں تقسیم نہیں کیا اور نہ کوئی درجہ بندی کی۔ یہ اصطلاحیں محمّد ﷺ کے زمانے میں استعمال نہیں ہوئِیں۔ یہ اصطلاحیں بعد کے زمانے میں فقھاء نے عوام النّاس کو سمجھانے کے لئے ایجاد کیں۔ قرآن کے نظریے اور محمّد ﷺ کی زندگی کو سامنے رکھ کر کسی بھی عمل کو صرف دو درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ۔فرض:- لازمی ۔ نفل:- اختیاری فقھاء نے بعد میں نوافل کی درجہ بندی کچھ اس طرح کی ہے :۔ ۔ واجب :ـ یہ وہ عبادت جسے محمّد ﷺ نے اکثریت سے کیا ہ...

کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تھا؟

کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تھا؟   خورشید امام ----------------------------------------------- 🔥 کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تھا؟ — حقیقت یا تمثیل؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آگ کا واقعہ قرآن مجید کے سب سے مؤثر اور سبق آموز واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ واقعہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی قدرت، ایمان کی پختگی، اور سچائی پر قائم رہنے والوں کی حفاظت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا آگ واقعی تھی؟ کیا حضرت ابراہیم حقیقتاً اس میں ڈالے گئے تھے؟ یا یہ واقعہ صرف ایک تمثیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے؟ آئیے قرآن کی آیات سے اس کا جائزہ لیتے ہیں: 🌟 سورۃ الأنبیاء (21:68–70) 68: انہوں نے کہا: "اسے جلا دو، اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو!" 69: ہم نے کہا: "اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا!" 70: انہوں نے ابراہیم کے خلاف چال چلنے کی کوشش کی، تو ہم نے انہیں خسارے والوں میں شامل کر دیا۔ 🔍 اگرچہ یہاں یہ الفاظ نہیں کہے گئے کہ "انہوں نے ابراہیم کو آگ میں ڈال دیا...